یوں تو طاقت کا نشہ ہر دور میں ہی سر چڑھ کر بولا ہے لیکن جنگ عظیم دوم سے لیکر اب تک  اس نشے میں مست، ٹیکنالوجی سے لیس طاقتوں نے امن عالم کے نام پر  انسانوں کا اتنا خون بہایا ہے جس کی شاید اب صدیوں بھی برپائی کی جائے تو کم ہو گی۔
جنگ عظیم دوم میں ناگاساکی اور ہیروشیما میں طاقت کے نشے میں چور انسانوں نے انسانیت کی چیخیں نکلوانے کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ اب کوئی قتل غارت نہیں کرے گا اب شیر اور بکری ایک برتن میں پانی پییں گے اور ساتھ یہ نتیجہ نکالا گیا کہ دنیا میں ہر  مسئلہ کا حل مذاکرات ہیں۔اور  پھر اس نتیجے کو ثابت کرنے کے لئے اتنے  تجربات کئے گئے کہ شاید اگر اتنے تجربات انسانیت کی فلاح کے لئے کیے جاتے تو آج کرونا وائرس دنیا میں خوف کی علامت نہ ہوتا۔
اس اصول کو ثابت کرنے  کے سب سے پہلے اور کامیاب تجربے ویتنام سے افغانستان تک کیے گئے۔نت نئے ہتھیاروں، ساؤنڈ بیریئر توڑتے جنگی جہازوں،انسانی غرور اور گھمنڈ غرضیکہ ہر چیز کو استعمال کیا گیا تاکہ پتا چلایا جا سکے کہ مسائل کا حل طاقت سے ممکن ہے یا پھر مزاکرات سے، اور پھر روس نے اپنے ٹکڑے ٹکڑے کروا کے  ایک مرتبہ پھر وہی نتیجہ نکالا جو کئی برس قبل بھی نکالا جا چکا تھا اور پتہ چلا کہ مسائل کا حل صرف مزاکرات۔
دنیا نے سک کا  سانس لیا ہی تھا کہ  دنیا کی اکلوتی سپر پاور نے دہشتگردی نام  کے  مسئلے  کے   حل کے لئے تجربے کی ٹھانی اور اب کی بار پوری دنیا کو طاقت کے اس  بے رحم کھیل میں شریک کیا  گیا جدید سے جدید ٹکنالوجی استعمال کی گئی افغانستان اور عراق کے چپے چپے پے انسانی اعضاء بکھیر دیےگئے لیکن نتیجہ پھر انتیس فروری 2020 کو قطر میں طالبان سے امن ڈیل سے وہی نکلا کہ مسائل کا حل صرف باہمی مزاکرات ہی ہیں۔
شاید یہ آخری تجربہ ہو شاید دنیا میں امن کے لیے اب کوئی جنگ نہ ہو۔ لیکن یمن وشام کی تجربہ گاہوں میں ابھی تو تجربات جاری ہیں خیر وہاں   دونوں اطراف تجربات کا محور  پسماندگی کا شکار مسلمان ہی ہیں۔

Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

Women Day