Posts

Showing posts from March, 2020
Image
یوں تو طاقت کا نشہ ہر دور میں ہی سر چڑھ کر بولا ہے لیکن جنگ عظیم دوم سے لیکر اب تک  اس نشے میں مست، ٹیکنالوجی سے لیس طاقتوں نے امن عالم کے نام پر  انسانوں کا اتنا خون بہایا ہے جس کی شاید اب صدیوں بھی برپائی کی جائے تو کم ہو گی۔ جنگ عظیم دوم میں ناگاساکی اور ہیروشیما میں طاقت کے نشے میں چور انسانوں نے انسانیت کی چیخیں نکلوانے کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ اب کوئی قتل غارت نہیں کرے گا اب شیر اور بکری ایک برتن میں پانی پییں گے اور ساتھ یہ نتیجہ نکالا گیا کہ دنیا میں ہر  مسئلہ کا حل مذاکرات ہیں۔اور  پھر اس نتیجے کو ثابت کرنے کے لئے اتنے  تجربات کئے گئے کہ شاید اگر اتنے تجربات انسانیت کی فلاح کے لئے کیے جاتے تو آج کرونا وائرس دنیا میں خوف کی علامت نہ ہوتا۔ اس اصول کو ثابت کرنے  کے سب سے پہلے اور کامیاب تجربے ویتنام سے افغانستان تک کیے گئے۔نت نئے ہتھیاروں، ساؤنڈ بیریئر توڑتے جنگی جہازوں،انسانی غرور اور گھمنڈ غرضیکہ ہر چیز کو استعمال کیا گیا تاکہ پتا چلایا جا سکے کہ مسائل کا حل طاقت سے ممکن ہے یا پھر مزاکرات سے، اور پھر روس نے اپنے ٹکڑے ٹکڑے کروا کے  ایک م...